Kaaba mein jaa raha toh na do ta'na kya kahein
19th Century Mirza Ghalib Urduکعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں بھولا ہوں حق_صحبت_اہل_کنشت کو
طاعت میں تا رہے نہ مے_و_انگبیں کی لاگ دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
ہوں منحرف نہ کیوں رہ_و_رسم_ثواب سے ٹیڑھا لگا ہے قط قلم_سرنوشت کو
غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے خرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو