Jis ja naseem shana-kash-e-zulf-e-yaar hai
19th Century Mirza Ghalib Urduجس جا نسیم شانہ_کش_زلف_یار ہے نافہ دماغ_آہوئے_دشت_تتار ہے
کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا آئینہ فرش_شش_جہت_انتظار ہے
ہے ذرہ ذرہ تنگئ_جا سے غبار_شوق گر دام یہ ہے وسعت_صحرا شکار ہے
دل مدعی و دیدہ بنا مدعا_علیہ نظارہ کا مقدمہ پھر رو_بکار ہے
چھڑکے ہے شبنم آئینۂ_برگ_گل پر آب اے عندلیب وقت_وداع_بہار ہے
پچ آ پڑی ہے وعدۂ_دلدار کی مجھے وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
بے_پردہ سوئے_وادی_مجنوں گزر نہ کر ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
اے عندلیب یک کف_خس بہر_آشیاں طوفان_آمد آمد_فصل_بہار ہے
دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی اے بے_دماغ آئینہ تمثال_دار ہے
غفلت کفیل_عمر و اسدؔ ضامن_نشاط اے مرگ_ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے