Jis bazm mein tu naaz se guftaar mein aave
19th Century Mirza Ghalib Urduجس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے جاں کالبد_صورت_دیوار میں آوے
سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر تو اس قد_دل_کش سے جو گلزار میں آوے
تب ناز_گراں مایگی_اشک بجا ہے جب لخت_جگر دیدۂ_خوں_بار میں آوے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم_گر کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
اس چشم_فسوں_گر کا اگر پائے اشارہ طوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب اک آبلہ_پا وادیٔ_پر_خار میں آوے
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن_نازک آغوش_خم_حلقۂ_زنار میں آوے
غارت_گر_ناموس نہ ہو گر ہوس_زر کیوں شاہد_گل باغ سے بازار میں آوے
تب چاک_گریباں کا مزا ہے دل_نالاں جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
آتش_کدہ ہے سینہ مرا راز_نہاں سے اے واے اگر معرض_اظہار میں آوے
گنجینۂ_معنی کا طلسم اس کو سمجھیے جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے