Jaur se baaz aaye par baaz aayein kya
19th Century Mirza Ghalib Urduجور سے باز آئے پر باز آئیں کیا کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے_گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ_بر کے ساتھ ساتھ یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
موج_خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے آستان_یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا