Jahan tera naqsh-e-qadam dekhte hain
19th Century Mirza Ghalib Urduجہاں تیرا نقش_قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
دل_آشفتگاں خال_کنج_دہن کے سویدا میں سیر_عدم دیکھتے ہیں
ترے سرو_قامت سے اک قد_آدم قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
تماشا کہ اے محو_آئینہ_داری تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
سراغ_تف_نالہ لے داغ_دل سے کہ شب_رو کا نقش_قدم دیکھتے ہیں
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ تماشائے_اہل_کرم دیکھتے ہیں
کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں کہ آہو کو پابند_رم دیکھتے ہیں
خط_لخت_دل یک_قلم دیکھتے ہیں مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں