Jab tak dahan-e-zakhm na paida kare koi
19th Century Mirza Ghalib Urduجب تک دہان_زخم نہ پیدا کرے کوئی مشکل کہ تجھ سے راہ_سخن وا کرے کوئی
عالم غبار_وحشت_مجنوں ہے سر_بہ_سر کب تک خیال_طرۂ_لیلا کرے کوئی
افسردگی نہیں طرب_انشائے_التفات ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے آخر کبھی تو عقدۂ_دل وا کرے کوئی
چاک_جگر سے جب رہ_پرسش نہ وا ہوئی کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی
لخت_جگر سے ہے رگ_ہر_خار شاخ_گل تا چند باغبانی_صحرا کرے کوئی
ناکامی_نگاہ ہے برق_نظارہ_سوز تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
ہر سنگ و خشت ہے صدف_گوہر_شکست نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
سر بر ہوئی نہ وعدۂ_صبر_آزما سے عمر فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی
ہے وحشت_طبیعت_ایجاد یاس_خیز یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
بیکاری_جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
حسن_فروغ_شمع_سخن دور ہے اسدؔ پہلے دل_گداختہ پیدا کرے کوئی
وحشت کہاں کہ بے_خودی انشا کرے کوئی ہستی کو لفظ_معنی_عنقا کرے کوئی
جو کچھ ہے محو_شوخی_ابروئے_یار ہے آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
عرض_سرشک پر ہے فضاۓ_زمانہ تنگ صحرا کہاں کہ دعوت_دریا کرے کوئی
وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی