Jis zakhm ki ho sakti ho tadbeer rafu ki
19th Century Mirza Ghalib Urduجس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچھا ہے سر_انگشت_حنائی کا تصور دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے_حوصلگی سے یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد_حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ حسرت میں رہے ایک بت_عربدہ_جو کی
گو زندگی_زاہد_بے_چارہ عبث ہے اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی