Husn ghamze ki kashakash se chhoota mere baad
19th Century Mirza Ghalib Urduحسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد بارے آرام سے ہیں اہل_جفا میرے بعد
منصب_شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا ہوئی معزولی_انداز_و_ادا میرے بعد
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلۂ_عشق سیہ_پوش ہوا میرے بعد
خوں ہے دل خاک میں احوال_بتاں پر یعنی ان کے ناخن ہوئے محتاج_حنا میرے بعد
در_خور_عرض نہیں جوہر_بیداد کو جا نگہ_ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
ہے جنوں اہل_جنوں کے لیے آغوش_وداع چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
کون ہوتا ہے حریف_مے_مرد_افگن_عشق ہے مکرر لب_ساقی پہ صلا میرے بعد
غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی کہ کرے تعزیت_مہر_و_وفا میرے بعد
آئے ہے بیکسی_عشق پہ رونا غالبؔ کس کے گھر جائے_گا سیلاب_بلا میرے بعد
تھی نگہ میری نہاں_خانۂ_دل کی نقاب بے_خطر جیتے ہیں ارباب_ریا میرے بعد
تھا میں گلدستۂ_احباب کی بندش کی گیاہ متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد