Hujoom-e-gham se yaan tak sar-nigooni mujh ko haasil hai
19th Century Mirza Ghalib Urduہجوم_غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے کہ تار_دامن و تار_نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے_زخم سے مطلب ہے لذت زخم_سوزن کی سمجھیو مت کہ پاس_درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ_فرمائی کرے غالبؔ چٹکنا غنچۂ_گل کا صداۓ_خندۂ_دل ہے
ہوا ہے مانع_عاشق_نوازی ناز_خود_بینی تکلف_بر_طرف آئینۂ_تمئیز حائل ہے
بہ_سیل_اشک لخت_دل ہے دامن_گیر مژگاں کا غریق_بحر جویائے_خس_و_خاشاک_ساحل ہے
بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار_کلفت_خاطر کہ چشم_تر میں ہر اک پارۂ_دل پائے_در_گل ہے
نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی غرض اب تک خیال_گرمیٔ_رفتار قاتل ہے