Hui taakhir to kuch baais-e-taakhir bhi tha
19th Century Mirza Ghalib Urduہوئی تاخیر تو کچھ باعث_تاخیر بھی تھا آپ آتے تھے مگر کوئی عناں_گیر بھی تھا
تم سے بے_جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ اس میں کچھ شائبۂ_خوبی_تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد ہاں کچھ اک رنج_گراں_باری_زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا بات کرتے کہ میں لب_تشنۂ_تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق_تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا نالہ کرتا تھا ولے طالب_تاثیر بھی تھا
پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام ہم ہی آشفتہ_سروں میں وہ جواں_میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا_حق آدمی کوئی ہمارا دم_تحریر بھی تھا
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا