Hazaaron khwahishein aisi ke har khwahish pe dam nikle
19th Century Mirza Ghalib Urduہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے_گا اس کی گردن پر وہ خوں جو چشم_تر سے عمر بھر یوں دم_بدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے_آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرۂ_پر_پیچ_و_خم کا پیچ_و_خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ_آشامی پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام_جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ_تیغ_ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے_خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے