Hasad se dil agar afsurda hai garm-e-tamasha ho
19th Century Mirza Ghalib Urduحسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم_تماشا ہو کہ چشم_تنگ شاید کثرت_نظارہ سے وا ہو
بہ_قدر_حسرت_دل چاہیے ذوق_معاصی بھی بھروں یک_گوشۂ_دامن گر آب_ہفت_دریا ہو
اگر وہ سرو_قد گرم_خرام_ناز آ جاوے کف_ہر_خاک_گلشن شکل_قمری نالہ_فرسا ہو
بہم بالیدن_سنگ_و_گل_صحرا یہ چاہے ہے کہ تار_جادہ بھی کہسار کو زنار_مینا ہو
حریف_وحشت_ناز_نسیم_عشق جب آؤں کہ مثل_غنچہ ساز_یک_گلستاں دل مہیا ہو
بجائے دانہ خرمن یک_بیاباں بیضۂ_قمری مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
کرے کیا ساز_بینش وہ شہید_درد_آگاہی جسے موئے_دماغ_بے_خودی خواب_زلیخا ہو
دل_جوں_شمع بہر_دعوت_نظارہ لایعنی نگہ لبریز_اشک و سینہ معمور_تمنا ہو
نہ دیکھیں روئے_یک_دل سرد غیر_از شمع_کافوری خدایا اس قدر بزم_اسدؔ گرم_تماشا ہو