Hareef-e-matlab-e-mushkil nahin fusoon-e-niyaaz
19th Century Mirza Ghalib Urduحریف_مطلب_مشکل نہیں فسون_نیاز دعا قبول ہو یا رب کہ عمر_خضر دراز
نہ ہو بہ_ہرزہ بیاباں_نورد_وہم_وجود ہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب_و_فراز
وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں کہ دیجے آئنۂ_انتظار کو پرداز
ہر ایک ذرۂ_عاشق ہے آفتاب_پرست گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ_جلوۂ_ناز
نہ پوچھ وسعت_مے_خانۂ_جنوں غالبؔ جہاں یہ کاسۂ_گردوں ہے ایک خاک_انداز
فریب_صنعت_ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عکس_فروش و خیال آئنہ_ساز
ز_بسکہ جلوۂ_صییاد حیرت_آرا ہے اڑی ہے صفحۂ_خاطر سے صورت_پرواز
ہجوم_فکر سے دل مثل_موج لرزے ہے کہ شیشہ نازک و صہبائے_آبگینہ_گداز
اسدؔ سے ترک_وفا کا گماں وہ معنی ہے کہ کھینچیے پر_طائر سے صورت_پرواز
ہنوز اے اثر_دید ننگ_رسوائی نگاہ فتنہ_خرام و در_دو_عالم باز