Ho gayi hai ghair ki sheereen-bayani kaargar
19th Century Mirza Ghalib Urduہو گئی ہے غیر کی شیریں_بیانی کارگر عشق کا اس کو گماں ہم بے_زبانوں پر نہیں
ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں دامن_تمثال آب_آئنہ سے تر نہیں
باعث_ایذا ہے برہم_خوردن_بزم_سرور لخت لخت_شیشۂ_بشکستہ جز نشتر نہیں
دل کو اظہار_سخن انداز_فتح_الباب ہے یاں صریر_خامہ غیر_از_اصطکاک_در نہیں