Har ek baat pe kehte ho tum ke tu kya hai
19th Century Mirza Ghalib Urduہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز_گفتگو کیا ہے
نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ_تند_خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم_سخن تم سے وگرنہ خوف_بد_آموزی_عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہمارے جیب کو اب حاجت_رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز سوائے بادۂ_گلفام_مشک_بو کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو_چار یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقت_گفتار اور اگر ہو بھی تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے