Hairaan hoon dil ko roun ke peetun jigar ko main
19th Century Mirza Ghalib Urduحیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ_گر کو میں
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے_ننگ_و_نام ہے یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز_رو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ_بر کو میں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار کیا پوجتا ہوں اس بت_بیداد_گر کو میں
پھر بے_خودی میں بھول گیا راہ_کوئے_یار جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل_دہر کا سمجھا ہوں دل_پذیر متاع_ہنر کو میں
غالبؔ خدا کرے کہ سوار_سمند_ناز دیکھوں علی بہادر_عالی_گہر کو میں