Gham khaane mein boda dil-e-nakaam bahut hai
19th Century Mirza Ghalib Urduغم کھانے میں بودا دل_ناکام بہت ہے یہ رنج کہ کم ہے مئے_گلفام بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ ہے یوں کہ مجھے درد_تہ_جام بہت ہے
نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی پاداش_عمل کی طمع_خام بہت ہے
ہیں اہل_خرد کس روش_خاص پہ نازاں پابستگی_رسم_و_رہ_عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف_حرم سے آلودہ_بہ_مے جامۂ_احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے