Ghair lein mehfil mein bose jaam ke
19th Century Mirza Ghalib Urduغیر لیں محفل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ_لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ ہتکھنڈے ہیں چرخ_نیلی_فام کے
خط لکھیں_گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
رات پی زمزم پہ مے اور صبح_دم دھوئے دھبے جامۂ_احرام کے
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
شاہ کے ہے غسل_صحت کی خبر دیکھیے کب دن پھریں حمام کے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے