Ghaafil ba-vehm-e-naaz khud-aara hai varna yaan
19th Century Mirza Ghalib Urduغافل بہ_وہم_ناز خود_آرا ہے ورنہ یاں بے_شانۂ_صبا نہیں طرہ گیاہ کا
بزم_قدح سے عیش_تمنا نہ رکھ کہ رنگ صید_ز_دام_جستہ ہے اس دام_گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے پر_گل خیال_زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در_ہواۓ_یک_نگۂ_گرم ہے اسدؔ پروانہ ہے وکیل ترے داد_خواہ کا
عزلت_گزین_بزم ہیں واماندگان_دید مینائے_مے ہے آبلہ پائے_نگاہ کا
ہر گام آبلے سے ہے دل در_تہ_قدم کیا بیم اہل_درد کو سختیٔ_راہ کا
طاؤس_در_رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا یارب نفس غبار ہے کس جلوہ_گاہ کا
جیب_نیاز_عشق نشاں_دار_ناز ہے آئینہ ہوں شکستن_طرف_کلاہ کا