Gayi woh baat ke ho guftugu to kyun kar ho
19th Century Mirza Ghalib Urduگئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے حیا ہے اور یہی گو_مگو تو کیونکر ہو
تمہیں کہو کہ گزارا صنم_پرستوں کا بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
جسے نصیب ہو روز_سیاہ میرا سا وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا نہ مانے دیدۂ_دیدار جو تو کیونکر ہو
بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار وہ نیش ہو رگ_جاں میں فرو تو کیونکر ہو
مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول_حضور فراق_یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو