Garm-faryaad rakha shakl-e-nihaali ne mujhe
19th Century Mirza Ghalib Urduگرم_فریاد رکھا شکل_نہالی نے مجھے تب اماں ہجر میں دی برد_لیالی نے مجھے
نسیہ_و_نقد_دو_عالم کی حقیقت معلوم لے لیا مجھ سے مری ہمت_عالی نے مجھے
کثرت_آرائی_وحدت ہے پرستاری_وہم کر دیا کافر ان اصنام_خیالی نے مجھے
ہوس_گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا عجب آرام دیا بے_پر_و_بالی نے مجھے
زندگی میں بھی رہا ذوق_فنا کا مارا نشہ بخشا غضب اس ساغر_خالی نے مجھے
بسکہ تھی فصل_خزان_چمنستان_سخن رنگ_شہرت نہ دیا تازہ_خیالی نے مجھے
جلوۂ_خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ کھو دیا سطوت_اسماۓ_جلالی نے مجھے