Gar na andoh-e-shab-e-furqat bayaan ho jaaye-ga
19th Century Mirza Ghalib Urduگر نہ اندوہ_شب_فرقت بیاں ہو جائے_گا بے_تکلف داغ_مہ مہر_دہاں ہو جائے_گا
زہرہ گر ایسا ہی شام_ہجر میں ہوتا ہے آب پرتو_مہتاب سیل_خانماں ہو جائے_گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پانو کا بوسہ مگر ایسی باتوں سے وہ کافر بد_گماں ہو جائے_گا
دل کو ہم صرف_وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا یعنی یہ پہلے ہی نذر_امتحاں ہو جائے_گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے_گا
گر نگاہ_گرم فرماتی رہی تعلیم_ضبط شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے_گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر ہر گل_تر ایک چشم_خوں_فشاں ہو جائے_گا
واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے_گا
فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے_گا
گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال خار گل بہر دہان گل زباں ہوجائے گا
گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہوجائے گا