Gar khamoshi se faida ikhfa-e-haal hai
19th Century Mirza Ghalib Urduگر خامشی سے فائدہ اخفائے_حال ہے خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرت_اظہار کا گلہ دل فرد_جمع_و_خرچ زباں_ہائے_لال ہے
کس پردہ میں ہے آئنہ_پرداز اے خدا رحمت کہ عذر_خواہ_لب_بے_سوال ہے
ہے ہے خدا_نخواستہ وہ اور دشمنی اے شوق_منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباس_کعبہ علی کے قدم سے جان ناف_زمین ہے نہ کہ ناف_غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ_آفاق تنگ تھا دریا زمین کو عرق_انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ عالم تمام حلقۂ_دام_خیال ہے
پہلو_تہی نہ کر غم_و_اندوہ سے اسدؔ دل وقف_درد کر کہ فقیروں کا مال ہے