Faryad ki koi lai nahin hai
19th Century Mirza Ghalib Urduفریاد کی کوئی لے نہیں ہے نالہ پابند_نے نہیں ہے
کیوں بوتے ہیں باغبان تونبے گر باغ گدائے_مے نہیں ہے
ہر_چند ہر ایک شے میں تو ہے پر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے
ہاں کھائیو مت فریب_ہستی ہر_چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
کیوں رد_قدح کرے ہے زاہد مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے