Dekh kar dar-parda garm-daaman-afshaani mujhe
19th Century Mirza Ghalib Urduدیکھ کر در_پردہ گرم_دامن_افشانی مجھے کر گئی وابستۂ_تن میری عریانی مجھے
بن گیا ہیں_تیغ_نگاہ_یار کا سنگ_فساں مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں_جانی مجھے
کیوں نہ ہو بے_التفاتی اس کی خاطر جمع ہے جانتا ہے محو_پرسش_ہاۓ_پنہانی مجھے
میرے غم_خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی لکھ دیا منجملۂ_اسباب_ویرانی مجھے
بد_گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے اس قدر ذوق_نوائے_مرغ_بستانی مجھے
وائے واں بھی شور_محشر نے نہ دم لینے دیا لے گیا تھا گور میں ذوق_تن_آسانی مجھے
وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
ہاں نشاط_آمد_فصل_بہاری واہ واہ پھر ہوا ہے تازہ سودائے_غزل_خوانی مجھے
دی مرے بھائی کو حق نے از_سر_نو زندگی میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف_ثانی مجھے