Dehr mein naqsh-e-wafa wajah-e-tasalli na hua
19th Century Mirza Ghalib Urduدہر میں نقش_وفا وجہ_تسلی نہ ہوا ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ_معنی نہ ہوا
سبزۂ_خط سے ترا کاکل_سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریف_دم_افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ_وفا سے چھوٹوں وہ ستم_گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر_گاہ_خیال_مے_و_ساغر ہی سہی گر نفس جادۂ_سر_منزل_تقوی نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی گوش منت_کش_گلبانگ_تسلی نہ ہوا
کس سے محرومیٔ_قسمت کی شکایت کیجے ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ_یک_جنبش_لب سے غالبؔ ناتوانی سے حریف_دم_عیسی نہ ہوا
نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت_خط_رخ_یار صفحۂ_آئنہ جولاں_گہ_طوطی نہ ہوا
وسعت_رحمت_حق دیکھ کہ بخشا جاوے مجھ سا کافر کہ جو ممنون_معاصی نہ ہوا