Deewangi se dosh pe zunnar bhi nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduدیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
دل کو نیاز_حسرت_دیدار کر چکے دیکھا تو ہم میں طاقت_دیدار بھی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
بے_عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں طاقت بقدر_لذت_آزار بھی نہیں
شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال_دوش صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
گنجایش_عداوت_اغیار یک طرف یاں دل میں ضعف سے ہوس_یار بھی نہیں
ڈر نالہ_ہائے_زار سے میرے خدا کو مان آخر نوائے_مرغ_گرفتار بھی نہیں
دل میں ہے یار کی صف_مژگاں سے روکشی حالانکہ طاقت_خلش_خار بھی نہیں
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھا اسدؔ کو خلوت_و_جلوت میں بارہا دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں