Dard se mere hai tujh ko be-qarari haaye haaye
19th Century Mirza Ghalib Urduدرد سے میرے ہے تجھ کو بے_قراری ہائے ہائے کیا ہوئی ظالم تری غفلت_شعاری ہائے ہائے
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب_غم کا حوصلہ تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم_گساری ہائے ہائے
کیوں مری غم_خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال دشمنی اپنی تھی میری دوست_داری ہائے ہائے
عمر بھر کا تو نے پیمان_وفا باندھا تو کیا عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
زہر لگتی ہے مجھے آب_و_ہوائے_زندگی یعنی تجھ سے تھی اسے نا_سازگاری ہائے ہائے
گل_فشانی_ہائے_ناز_جلوہ کو کیا ہو گیا خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ_کاری ہائے ہائے
شرم_رسوائی سے جا چھپنا نقاب_خاک میں ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ_داری ہائے ہائے
خاک میں ناموس_پیمان_محبت مل گئی اٹھ گئی دنیا سے راہ_و_رسم_یاری ہائے ہائے
ہاتھ ہی تیغ_آزما کا کام سے جاتا رہا دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم_کاری ہائے ہائے
کس طرح کاٹے کوئی شب_ہائے_تار_برشگال ہے نظر خو_کردۂ_اختر_شماری ہائے ہائے
گوش مہجور_پیام و چشم_محروم_جمال ایک دل تس پر یہ نا_امید_واری ہائے ہائے
عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق_خواری ہائے ہائے