Dard minnat-kash-e-dawa na hua
19th Century Mirza Ghalib Urduدرد منت_کش_دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں تو ہی جب خنجر_آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے_مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم ان کے آنے کی آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا لہو نہ تھما کام گر رک گیا روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل_ستانی ہے لے کے دل دل_ستاں روانہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالبؔ غزل_سرا نہ ہوا