Daim pada hua tere dar par nahin hoon main
19th Century Mirza Ghalib Urduدائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
کیوں گردش_مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح_جہاں پہ حرف_مکرر نہیں ہوں میں
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے آخر گناہ_گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ رتبے میں مہر_و_ماہ سے کم_تر نہیں ہوں میں
کرتے ہو مجھ کو منع_قدم_بوس کس لیے کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
غالبؔ وظیفہ_خوار ہو دو شاہ کو دعا وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں