Chashm-e-khoobaan khaamoshi mein bhi nawa-pardaaz hai
19th Century Mirza Ghalib Urduچشم_خوباں خامشی میں بھی نوا_پرداز ہے سرمہ تو کہوے کہ دود_شعلۂ_آواز ہے
پیکر_عشاق ساز_طالع_نا_ساز ہے نالہ گویا گردش_سیارہ کی آواز ہے
دست_گاہ_دیدۂ_خوں_بار_مجنوں دیکھنا یک_بیاباں جلوۂ_گل فرش_پا_انداز ہے
چشم_خوباں مے_فروش_نشہ_زار_ناز ہے سرمہ گویا موج_دود_شعلۂ_آواز ہے
ہے صریر_خامہ ریزش_ہاۓ_استقبال_ناز نامہ خود پیغام کو بال_و_پر_پرواز ہے
سرنوشت_اضطراب_انجامی_الفت نہ پوچھ نال_خامہ خار_خار_خاطر_آغاز ہے
شوخی_اظہار غیر_از_وحشت_مجنوں نہیں لیلیٰ_معنی اسدؔ محمل_نشین_راز ہے
نغمہ ہے کانوں میں اس کے نالۂ_مرغ_اسیر رشتۂ_پا یاں نوا_سامان_بند_ساز ہے
شرم ہے طرز_تلاش_انتخاب_یک_نگاہ اضطراب_چشم برپا دوختہ_غماز ہے