Chahiye achhon ko jitna chahiye
19th Century Mirza Ghalib Urduچاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صحبت_رنداں سے واجب ہے حذر جائے_مے اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
چاک مت کر جیب بے_ایام_گل کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگی منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دشمنی نے میری کھویا غیر کو کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی یار ہی ہنگامہ_آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
غافل ان مہ_طلعتوں کے واسطے چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خوب_رویوں کو اسدؔ آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے