sitaish-gar hai zahid is qadar jis bagh-e-rizwan ka
19th Century Mirza Ghalib Urduستائش_گر ہے زاہد اس قدر جس باغ_رضواں کا وہ اک گلدستہ ہے ہم بے_خودوں کے طاق_نسیاں کا
بیاں کیا کیجیے بیداد_کاوش_ہائے_مژگاں کا کہ ہر یک قطرۂ_خوں دانہ ہے تسبیح_مرجاں کا
نہ آئی سطوت_قاتل بھی مانع میرے نالوں کو لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
دکھاؤں_گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے مرا ہر داغ_دل اک تخم ہے سرو_چراغاں کا
کیا آئینہ_خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے کرے جو پرتو_خورشید عالم شبنمستاں کا
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی ہیولیٰ برق_خرمن کا ہے خون_گرم دہقاں کا
اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
خموشی میں نہاں خوں_گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں چراغ_مردہ ہوں میں بے_زباں گور_غریباں کا
ہنوز اک پرتو_نقش_خیال_یار باقی ہے دل_افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ سبب کیا خواب میں آ کر تبسم_ہائے_پنہاں کا
نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا قیامت ہے سرشک_آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
نظر میں ہے ہماری جادۂ_راہ_فنا غالبؔ کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے_پریشاں کا