siyahi jaise gir jaaye dam-e-tahreer kaghaz par
19th Century Mirza Ghalib Urduسیاہی جیسے گر جائے دم_تحریر کاغذ پر مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب_ہاۓ_ہجراں کی
کہوں کیا گرم_جوشی مے_کشی میں شعلہ_رویاں کی کہ شمع_خانۂ_دل آتش_مے سے فروزاں کی
ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق_تیرہ_روزی تھی سیاہی ہے مرے ایام میں لوح_دبستاں کی
دریغ آہ_سحر_گہ کار_باد_صبح کرتی ہے کہ ہوتی ہے زیادہ سرد_مہری شمع_رویاں کی
مجھے اپنے جنوں کی بے_تکلف پردہ_داری تھی ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت_آزمائی میں کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم_حیراں کی
خدایا کس قدر اہل_نظر نے خاک چھانی ہے کہ ہیں صد_رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
ہوا شرم_تہی_دستی سے وہ بھی سرنگوں آخر بس اے زخم_جگر اب دیکھ لے شورش نمکداں کی
بیاد_گرمیٔ_صحبت بہ_رنگ_شعلہ دہکے ہے چھپاؤں کیونکہ غالبؔ سوزشیں داغ_نمایاں کی