naveed-e-aman hai bedaad-e-dost jaan ke liye
19th Century Mirza Ghalib Urduنوید_امن ہے بیداد_دوست جاں کے لیے رہی نہ طرز_ستم کوئی آسماں کے لیے
بلا سے گر مژۂ_یار تشنۂ_خوں ہے رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان_خوں فشاں کے لیے
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس_خلق اے خضر نہ تم کہ چور بنے عمر_جاوداں کے لیے
رہا بلا میں بھی میں مبتلائے_آفت_رشک بلائے_جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں دراز_دستی_قاتل کے امتحاں کے لیے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ_اسیر کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
بہ_قدر_شوق نہیں ظرف_تنگنائے_غزل کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
زباں پہ بار_خدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
نصیر_دولت_و_دیں اور معین_ملت_و_ملک بنا ہے چرخ_بریں جس کے آستاں کے لیے
زمانہ عہد میں اس کے ہے محو_آرایش بنیں_گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے سفینہ چاہیے اس بحر_بیکراں کے لیے
ادائے_خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ_سرا صلائے_عام ہے یاران_نکتہ_داں کے لیے