nahin hai zakhm koi bakhiye ke darkhur mere tan mein
19th Century Mirza Ghalib Urduنہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در_خور مرے تن میں ہوا ہے تار_اشک_یاس رشتہ چشم_سوزن میں
ہوئی ہے مانع_ذوق_تماشا خانہ_ویرانی کف_سیلاب باقی ہے بہ_رنگ_پنبہ روزن میں
ودیعت_خانۂ_بیداد_کاوش_ہاۓ_مژگاں ہوں نگین_نام_شاہد ہے مرے ہر قطرۂ_خوں تن میں
بیاں کس سے ہو ظلمت_گستری میرے شبستاں کی شب_مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
نکوہش مانع_بے_ربطی_شور_جنوں آئی ہوا ہے خندۂ_احباب بخیہ جیب_و_دامن میں
ہوئے اس مہروش کے جلوۂ_تمثال کے آگے پرافشاں جوہر آئینے میں مثل_ذرہ روزن میں
نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت_مخالف ہے جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
ہزاروں دل دیے جوش_جنون_عشق نے مجھ کو سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ_خوں تن میں
اسدؔ زندانی_تاثیر_الفت_ہاۓ_خوباں ہوں خم_دست_نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
فزوں کی دوستوں نے حرص_قاتل ذوق_کشتن میں ہوئے ہیں بخیہ_ہائے_زخم جوہر تیغ_دشمن میں
تماشا کردنی ہے لطف_زخم_انتظار اے دل سویدا داغ_مرہم مردمک ہے چشم_سوزن میں
دل_و_دین_و_خرد تاراج_ناز_جلوہ_پیرائی ہوا ہے جوہر_آئینہ خیل_مور خرمن میں
نکوہش مانع_دیوانگی_ہائے_جنوں آئی لگایا خندۂ_ناصح نے بخیہ جیب_و_دامن میں