hawas ko hai nishaat-e-kaar kya kya
19th Century Mirza Ghalib Urduہوس کو ہے نشاط_کار کیا کیا نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل_پیشگی سے مدعا کیا کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
نوازش_ہائے_بے_جا دیکھتا ہوں شکایت_ہائے_رنگیں کا گلہ کیا
نگاہ_بے_محابا چاہتا ہوں تغافل_ہائے_تمکیں_آزما کیا
فروغ_شعلۂ_خس یک_نفس ہے ہوس کو پاس_ناموس_وفا کیا
نفس موج_محیط_بے_خودی ہے تغافل_ہائے_ساقی کا گلہ کیا
دماغ_عطر_پیراہن نہیں ہے غم_آوارگی_ہائے_صبا کیا
دل_ہر_قطرہ ہے ساز_انا_البحر ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ شہیدان_نگہ کا خوں_بہا کیا
سن اے غارت_گر_جنس_وفا سن شکست_شیشۂ_دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگر_داری کا دعویٰ شکیب_خاطر_عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ_صبر_آزما کیوں یہ کافر فتنۂ_طاقت_ربا کیا
بلائے_جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا