ghar jab bana liya tere dar par kahe baghair
19th Century Mirza Ghalib Urduگھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے_گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت_سخن جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں لیوے نہ کوئی نام ستم_گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں_گا میں نہ اس بت_کافر کا پوجنا چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
مقصد ہے ناز_و_غمزہ ولے گفتگو میں کام چلتا نہیں ہے دشنہ_و_خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ_حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادہ_و_ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر