dhota hoon jab main peene ko us seem-tan ke paaon
19th Century Mirza Ghalib Urduدھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم_تن کے پاؤں رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
دی سادگی سے جان پڑوں کوہ_کن کے پاؤں ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ_تن کے پاؤں
اللہ_رے ذوق_دشت_نوردی کہ بعد_مرگ ہلتے ہیں خود_بہ_خود مرے اندر کفن کے پاؤں
ہے جوش_گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ_چمن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں دکھتے ہیں آج اس بت_نازک_بدن کے پاؤں
غالبؔ مرے کلام میں کیوں_کر مزا نہ ہو پیتا ہوں دھوکے خسرو_شیریں_سخن کے پاؤں