bala se hain jo yeh pesh-e-nazar dar-o-deewar
19th Century Mirza Ghalib Urduبلا سے ہیں جو یہ پیش_نظر در_و_دیوار نگاہ_شوق کو ہیں بال_و_پر در_و_دیوار
وفور_اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ کہ ہو گئے مرے دیوار_و_در در_و_دیوار
نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید_مقدم_یار گئے ہیں چند قدم پیشتر در_و_دیوار
ہوئی ہے کس قدر ارزانی_مۓ_جلوہ کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در_و_دیوار
جو ہے تجھے سر_سوداۓ_انتظار تو آ کہ ہیں دکان_متاع_نظر در_و_دیوار
ہجوم_گریہ کا سامان کب کیا میں نے کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در_و_دیوار
وہ آ رہا مرے ہم_سایے میں تو سائے سے ہوئے فدا در_و_دیوار پر در_و_دیوار
نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در_و_دیوار
نہ پوچھ بے_خودی_عیش_مقدم_سیلاب کہ ناچتے ہیں پڑے سر_بہ_سر در_و_دیوار
نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں حریف_راز_محبت مگر در_و_دیوار