baazeecha-e-atfaal hai duniya mere aage
19th Century Mirza Ghalib Urduبازیچۂ_اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب_و_روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگ_سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز_مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورت_عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ_اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
سچ کہتے ہو خودبین و خود_آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت_آئنہ_سیما مرے آگے
پھر دیکھیے انداز_گل_افشانیٔ_گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ_صہبا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں_کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق_فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب_ہجراں کی تمنا مرے آگے
ہے موجزن اک قلزم_خوں کاش یہی ہو آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر_و_مینا مرے آگے
ہم_پیشہ و ہم_مشرب و ہم_راز ہے میرا غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے