dil mira soz-e-nihaan se be-muhaaba jal gaya
19th Century Mirza Ghalib Urduدل مرا سوز_نہاں سے بے_محابا جل گیا آتش_خاموش کی مانند گویا جل گیا
دل میں ذوق_وصل و یاد_یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا میری آہ_آتشیں سے بال_عنقا جل گیا
عرض کیجے جوہر_اندیشہ کی گرمی کہاں کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار اس چراغاں کا کروں کیا کار_فرما جل گیا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل دیکھ کر طرز_تپاک_اہل_دنیا جل گیا
خانمان_عاشقاں دکان_آتش_باز ہے شعلہ_رو جب ہو گئے گرم_تماشا جل گیا
تا کجا افسوس_گرمی_ہاۓ_صحبت اے خیال دل بہ_سوز_آتش_داغ_تمنا جل گیا
ہے اسدؔ بیگانۂ_افسردگی اے بیکسی دل ز_انداز_تپاک_اہل_دنیا جل گیا
دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم_سری بسکہ شوق_آتش_گل سے سراپا جل گیا
شمع_رویاں کی سر_انگشت_حنائی دیکھ کر غنچۂ_گل پرفشاں پروانہ_آسا جل گیا