arz-e-niyaaz-e-ishq ke qaabil nahin raha
19th Century Mirza Ghalib Urduعرض_نیاز_عشق کے قابل نہیں رہا جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ_حسرت_ہستی لیے ہوئے ہوں شمع_کشتہ در_خور_محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں شایان_دست_و_بازوئے_قاتل نہیں رہا
برروئے_شش_جہت در_آئینہ باز ہے یاں امتیاز_ناقص_و_کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بند_نقاب_حسن غیر_از_نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہین_ستم_ہائے_روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے_کشت_وفا مٹ گئی کہ واں حاصل سوائے حسرت_حاصل نہیں رہا
بیداد_عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
ہر_چند میں ہوں طوطی_شیریں_سخن ولے آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
جاں_داد_گاں کا حوصلہ فرصت_گداز ہے یاں عرصۂ_طپیدن_بسمل نہیں رہا
ہوں قطرہ_زن بہ_وادیٔ_حسرت شبانہ روز جز تار_اشک جادۂ_منزل نہیں رہا
اے آہ میری خاطر_وابستہ کے سوا دنیا میں کوئی عقدۂ_مشکل نہیں رہا
انداز_نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا