Zakhm par chhidkein kahan tiflaan-e-be-parwa namak
19th Century Mirza Ghalib Urduزخم پر چھڑکیں کہاں طفلان_بے_پروا نمک کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
گرد_راہ_یار ہے سامان_ناز_زخم_دل ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو نالۂ_بلبل کا درد اور خندۂ_گل کا نمک
شور_جولاں تھا کنار_بحر پر کس کا کہ آج گرد_ساحل ہے بہ_زخم_موجۂ_دریا نمک
داد دیتا ہے مرے زخم_جگر کی واہ واہ یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
چھوڑ کر جانا تن_مجروح_عاشق حیف ہے دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
غیر کی منت نہ کھینچوں_گا پے_توفیر_درد زخم مثل_خندۂ_قاتل ہے سر_تا_پا نمک
یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد_ذوق میں زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک