Yeh na thi hamari qismat ke visaal-e-yaar hota
19th Century Mirza Ghalib Urduیہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال_یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر_نیم_کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ_ساز ہوتا کوئی غم_گسار ہوتا
رگ_سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں_گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم_عشق گر نہ ہوتا غم_روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب_غم بری بلا ہے مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق_دریا نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو_چار ہوتا
یہ مسائل_تصوف یہ ترا بیان غالبؔ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ_خوار ہوتا