Yak zarra-e-zameen nahin be-kaar baagh ka
19th Century Mirza Ghalib Urduیک_ذرۂ_زمیں نہیں بے_کار باغ کا یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
بے_مے کسے ہے طاقت_آشوب_آگہی کھینچا ہے عجز_حوصلہ نے خط ایاغ کا
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ_ہائے_گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
تازہ نہیں ہے نشۂ_فکر_سخن مجھے تریاکی_قدیم ہوں دود_چراغ کا
سو بار بند_عشق سے آزاد ہم ہوئے پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
بے_خون_دل ہے چشم میں موج_نگہ غبار یہ مے_کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
باغ_شگفتہ تیرا بساط_نشاط_دل ابر_بہار خم_کدہ کس کے دماغ کا؟
جوش_بہار_کلفت_نظارہ ہے اسدؔ ہے ابر پنبہ روزن_دیوار_باغ کا