Yaad hai shaadi mein bhi hangama-e-ya-rab mujhe
19th Century Mirza Ghalib Urduیاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ_یا_رب مجھے سبحۂ_زاہد ہوا ہے خندہ زیر_لب مجھے
ہے کشاد_خاطر_وابستہ در رہن_سخن تھا طلسم_قفل_ابجد خانۂ_مکتب مجھے
یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاق_لذت_ہاۓ_حسرت کیا کروں آرزو سے ہے شکست_آرزو مطلب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے