Woh firaaq aur woh visaal kahan
19th Century Mirza Ghalib Urduوہ فراق اور وہ وصال کہاں وہ شب_و_روز و ماہ_و_سال کہاں
فرصت_کاروبار_شوق کسے ذوق_نظارۂ_جمال کہاں
دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا شور_سودائے_خط_و_خال کہاں
تھی وہ اک شخص کے تصور سے اب وہ رعنائی_خیال کہاں
ایسا آساں نہیں لہو رونا دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
ہم سے چھوٹا قمار_خانۂ_عشق واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
فکر_دنیا میں سر کھپاتا ہوں میں کہاں اور یہ وبال کہاں
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں
بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے پر مجھے طاقت_سوال کہاں
فلک_سفلہ بے_محابا ہے اس ستمگر کو انفعال کہاں