Woh aa ke khwaab mein taskeen-e-iztiraab to de
19th Century Mirza Ghalib Urduوہ آ کے خواب میں تسکین_اضطراب تو دے ولے مجھے تپش_دل مجال_خواب تو دے
کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا تری طرح کوئی تیغ_نگہ کو آب تو دے
دکھا کے جنبش_لب ہی تمام کر ہم کو نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن کبھی زمانہ مراد_دل_خراب تو دے