Warasta uss se hain ke mohabbat hi kyun na ho
19th Century Mirza Ghalib Urduوارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا ہے دل پہ بار نقش_محبت ہی کیوں نہ ہو
ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ_غیر کا گلہ ہر_چند بر_سبیل_شکایت ہی کیوں نہ ہو
پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا یوں ہو تو چارۂ_غم_الفت ہی کیوں نہ ہو
ڈالا نہ بے_کسی نے کسی سے معاملہ اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
ہے آدمی بجائے خود اک محشر_خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
ہنگامۂ_زبونی_ہمت ہے انفعال حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
وارستگی بہانۂ_بیگانگی نہیں اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
مٹتا ہے فوت_فرصت_ہستی کا غم کوئی عمر_عزیز صرف_عبادت ہی کیوں نہ ہو
اس فتنہ_خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو